GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
محتاجِ تربیت ہرانسان
علم کے بادبان سے ہی سفینہ زندگی کاپار

تربیت ایک اہم مسئلہ ہے جس کی ضرورت ہر زمانے و ہر معاشرے یا یوں کہئے بچہ سے لے کر ایک عمر رسیدہ بزرگ تک کو ہمہ وقت تربیت کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان کو اگرچہ خلقت خدا میں اشرف المخلوقات کا شرف و اعزاز خُدائے بزرگ کی طرف سے عطا ہو اہے اور باری تعا لیٰ کے موجودات ومخلوقات میں انسان ایک عجیب و غریب اور عظیم ترین مخلوق بھی ہے۔ اس کو اخلاقی وروحانی تربیت کی زیادہ ہی ضرورت پیش ہے کیونکہ اگر ایک انسان کی تربیت ہو کر صحیح سمت پکڑ لے تو دنیا کی ہر چیز صحیح ہو جائے گی۔ بہترین و صحیح تربیت یافتہ افراد کی موجودگی سے انسانی معا شرہ امن وامان ‘ خوش بختی وخوش حالی کی زندگی بسر کر سکتا ہے۔ صحیح تربیت کے ساتھ ہی انسان کی سعادت و کمال بشری بھی اُسی صورت میں ممکن ہے جب  ہر فردبشر تربیت یافتہ ہو۔تمام انبیا ء کرام ؑ اور تاریخِ انسان کے دانشوروں اور بزرگوں نے اپنی تمام کوشش اِسی ایک مقصد کے حصول پر صَرف کی ۔ انبیائے عظام ؑ اور اُمت وسط کی بہتر تربیت پر ہی دنیائے آدمیت کی بنیاد اور انسانیت قا ئم و دائم ہے۔ چونکہ انبیاؑء اسی خدائی کام پر مامور ہو نے کے باعث اس نقطہ کو بحسن و خوبی جانتے تھے کہ صبر و استقامت سے ہی اِس عظیم ہدف کو پا   یا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہماری تمام تر کوششیں اسی ہدف پر مرکوز ہو نی چاہیے ۔ ہم پہلے خود بھی تر بیت یافتہ بنے اور دوسروں کے لئے بھی تربیت و تزکیہ نفس کی مثال یا نمونہ عمل قرار پائیں۔

اگر ہم تربیت کا صحیح معنی و مفعوم جاننے کی کوشش کریں تو ماہرین نفسیات ‘ دانشور حضرات کی نظر میں انبیا ئے کرام ؑ اور قرآن پاک سے ہمارا روحانی رشتہ استوار کرنا لازمی ہے جب کہ بہ حیثیت مسلمان مضبوط ترین دلیل اور عملی نمونہ بھی ہمارے لئے یہی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق حصول حق کے لئے آمادگی اور مستقبل میں مختلف ذمہ داریوں کو قبول کرنا یا ایک معین ہدف تک پہنچنے کے لئے صلاحیتوں کو اُبھارنا اور اندرونی قویٰ کو فعا لیت تک پہنچا نا ذہنی تربیت کاعمل کہلاتاہے۔ لغت میں تربیت سے مراد اُوپر لے جانے اور نشوو نما دینا ہے اور یہ لفظ ’’ ربُو ‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی بلندی حاصل کرنا ہے۔ غرض انسانی استعداد وصلاحیتوں کو پروان چڑ ھانا اور زندہ انسان کی پرورش کرنا ‘ یہ سار کام کاج تربیت سے مربوط ہے ۔ قران و احادیث ان مطالب کو مز ید گہرائی و قوی انداز میں یوں بیان فرمارہا ہے : تزکیہ نفس اور تاریکیوں سے نورانیت کی طرف اِخراج کرنے کو تربیت کہتے ہیں یعنی جب تک بنی نوع انسان بے تربیت ہے وہ بغیر تزکیہ ہے ‘وہ ظلمتوں اور تاریکیوں میں قید و بند ہے اور تقویٰ و پر ہیز گاری سے عاری ہے لیکن جوں ہی تربیت یافتہ ہو جاتا ہے تو بالکل ’’… مِن الظُلمات اِلیٰ النُّور … ‘‘   کا عملی ثبوت سامنے آتا ہے۔قرآن پاک کا نزول و منشاء یہی ہے کہ انسانی روح کی تطہیر، تہذیب نفس اور ذہنی تربیت ہو جائے۔ یہ روح ِحیات ہی ہے جس نے ایک حقیر اور ذلیل قطرۂ نجس کی پیداوار کو اشرفیت کا لباس عطا کر دیاہے۔ اگر روحی پہلو اور بشری پہلو ایک دوسرے سے علحٰیدہ کیا جائے تو پھر انسان قطرہ نجس سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔اور ایسا  ہونے سے عالم انسانیت میں بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

جب ہم اپنے گردو پیش نظر دوڑاتے ہیںتو اکثر ہمارا معاشرہ اخلاقی وروحانی تربیت سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ تربیت صر ف تقریری طور برائے لذ ت ذہنی اور تحریری طور قلم و کاغذ کی زینت بن کر رہ گئی مگر جہاں تک کسی اچھے اور نیک وصالح بنا نے کے فارمولے کو عملا نے کا تعلق ہے عملی جا مہ یہی حقیقی تربیت  کا لب لباب ہے اور اس کے تصورکو صحیح معنوں میں پیش کرنا ہے ۔اس چیز سے ہمارا معاشرہ کوسُوں دور ہے اور ایسا لگتا ہے کہ تربیت کے بدترین فقدان سے حالت دن بہ دن بگڑ تی ہی جا رہی ہے۔اس کا ذ مہ د ار کون ہے؟؟؟ خُدائے و احد کے چاہنے سے والدین ہی الوہی نعمت ( یعنی بچہ) کے پیدائش کا وسیلہ ہو تے ہیں اور ماں باپ یا بزرگوں کی آغوش میں ہی اس کا پلنا بڑھنا قدرتی امر ہے۔ پھر شکایت کریں تو کس کی اور کس سے؟  اگر ہم آدم زاد کو تربیتی تہی دامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو غالباًیہی سچ ہو گا۔ ہمارے گھر تربیت گاہ نہیں ہیں۔  ہمارے اسکول ، کالج حتیٰ  کہ یو نیورسٹیاں تک حقیقی تربیت گاہیں نہیں رہی ہیں ‘ اور ہمارا پورا سماج تربیت گاہا نہ فکر اور نظر سے یکسر خالی نظر آرہا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے چاروں طرف تلخیاں اور ناکا میاں، بے بسی و لاچاریاں ہیں، علم بہت مگر عمل نہیں ۔ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہم بے غیرت رہ کر مغربی جارح تہذیب کی غلامی اور نقالی پر اُتر آئے ہیں اور اُسے سر آنکھوں پر بٹھانے  اور زندگی میںاپنانے پرفخر و ناز بھی کرتے ہیں۔ ہم ہی تو ہیں جنہوں نے یہ قیمتی مہلتِ حیات کا بہت ہی کم قیمت میں نیلام کر ڈالا ہے۔ ہماری زندگی بغیر تربیت اُس چراغ کے مانند ہے جو اپنی تونائی (روشنی)  اُن راہوں اور خارزارو میں ضائع کرتا ہے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ اند ھیری راہوں میں بھٹک کر یو ں ان کی اپنی زندگی ہی اندھیراــــہی اندھیرا نہیں ہو کررہ گئی بلکہ وقت گزرتا گیا تو اندھیاروں کی وجہ سے یہ مر د نا دان خود اپنے لئے ہی نہیں دنیا کے لئے بھی بے ہدف و بے مقصد بوجھ بن گئے ، نہ ان کو آجاور ابھی کی خبر نہ کل کا پتہ۔

جن گھروں میں والدین پڑھے لکھے اور با صلاحیت اور با تربیت ہوں وہ گھر کسی دانش گاہ اور جامعہ سے کم نہیں ہے۔ تہذیب یافتہ اور با تربیت والدین(با لخصوص ماں اگر بلند نگاہ  پاک خیال اور نیک سیرت ہو) اپنی محنت سے با ایمان و با تقویٰ، با ادب و با اخلاق، شجاعت طلبی اور اصلاح یافتہ افراد لازماً معاشرے کو مہیا کرتے ہیں۔ اگر خصوصی طور عورت اپنا یہ مقدس ترین مقام و مر تبہ سمجھ لے اور پھر اس کے شایانِ شان کائنات کی عظیم ترین اور با صفات خواتین کو اپنا آئیڈیل منتخب کرلے تو یقینا وہ معنوی کمالات حاصل کر کے اولیائے خدا کے مقام کا حاصل کر سکتی ہے کہ عالم انسانیت عش عش کر ے ‘ کیونکہ ان کی آغوشِ تربیت میں ایسے اولو العزم افراد پلتے ہیں، جن کی برکات اور فیضان سے ایک ہی معاشرہ نہیں بلکہ کئی دیگر معا شرے بھی استقامت و پائیداری اور انسانی اقدار سے مالامال ہو تے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں نے اس عظیم پیشہ یعنی تربیت واصلاح سے بہت حد تک کنارہ کشی کر رکھی ہے اور انسان ساز عورتوںکا اس وقت موجود نہ ہونا قوموں کے زوال اور ناکامی کا بڑا سبب ہے۔ ہماری صنف نازک ایک چھوٹے سے استثنیٰ کو چھو ڑ کر صرف آج کل زَر‘ زیوراور زینت کی فکر میں اور عیش وعشرت کی سہولتیں مہیا رکھنے میں مشغول ہیں۔ مادہ پرست و مغرب زدہ فیشن کی پرستار عورتوں کی اس وقت کوئی کمی نظر نہیں آتی ہیںمگر جس عروج وکمال کی توقع عورتوں کی جانب سے قوموں یا معاشروں کو تھی وہ  سار اجذبہ مادی ترغیبات اور آوارہ فکری میں گم گشتہ متاع ہو کر رہ گیاہے۔ اگر اخلاقی طور زندہ وپائیندہ اور بہادر مائوں کے ہاتھوں بہادر افراد قوموں کو مل جاتے ہیںتو ملتیں ہر میدان ِ حیات میں اور ہر محاذجنگ پرفتح یاب اور سر بلند ہو جاتی ہیں، چاہئے یہ شعبہ ٔ تعلیم وآگہی ہو ‘ ثقافت کا شعبہ ہو ، اقتصادیات کا میدان ہو ، انفرادی و اجتماعی مسائل اک چیستاں ہو، علم وعرفان اور درس وتدریس کا میدان ہو ہر سمت تربیت یافتہ انسانوں سے انسانیت کا بول بالامشروط ہے ۔ پیغمبر اسالم نے ماں کی عظمتوں کو سالم کر کے ہمیں یہ بہشتی تعلیم دی کہ ماں کے قدموں میں جنت ہے ۔ اس حدیث مبا رکہ سے عورت کی عظمت ہی متر شح نہیں ہو تی بلکہ صالح تربیت کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے ۔

کِنگ نپالیو کہتے ہیں: "Give me the good mothers, I will give you the good nation."   ۔بچہ کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ‘اس لئے اساتذہ سے بہتر موثر تربیت ماں کی آغوش میں ہی ہو سکتی ہے۔ اگر ماں باادب و با اخلاق، پاک دامن، با فضیلت اور نیک سیرت ہو تو یہ سارے خصوصیات نسل در نسل منتقل ہو سکتے ہیں۔ البتہ اگر ماں خدا نخواستہ  غیر سنجیدہ اور بے تر بیت ہو توبچوں کو گمراہی کے علاوہ اور کوئی درس نہیں پڑھا سکتی۔ رسول اﷲؐ کافرمان مبارک ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘دراصل وہ جنت تربیت گاہ ہی ہے جہاں سے ایک ماں اپنی بیش بہا صلاحیتیں اور دن رات خون پسینہ ایک کر کے فداکاری کا جذبہ اپنے جانباز اور ہونہار نسلوں کو حق کا دفاع کرنے اور صداقت کا چراغ ہمیشہ روشن رکھنے کا طریقہ سکھاسکتی ہے ‘ ان کے اندار ایمان اور امانت داری اور جان سپاری کا جذبہ منتقل کر سکتی ہے سچ کی خاطر میدانِ عمل میں کام کر نے اک سلیقہ بھی تربیت یافتہ ماں کا ہی کنٹر بیوشن ہو تا ہے ۔ ماںکے پیرئوں تلے جنت رکھنے کی حکمت اور رتبہ ٔعالیہ ان ہی مائوں کا اعزاز و امتیاز ہے جنہوں نے اپنے جانثاروں کو خُدائے واحد اور راہِ حق میں صدقِ دل ہمیشہ پیش پیش رکھا ہے اور اپنے چہیتوں کی دلاوری اور سچائی کی صلاحیت پر فخر و ناز کرتی رہیں۔ حضرت فاطمہ زہراؓ کو ہمیشہ اپنے لاڈلے فرزندوں… حسنؓ وحسینؓ … پر فخر رہے گا اور انہیں اپنے والدین پر ناز رہے گا۔

ہم سب صالح تربیت کے محتاج ہیں۔ کاش ہم سب کی صحیح خطوط پربیت ہو جا ئے تو پھر ہم گمراہ کن راہوں میں گم کردہ راہ ہو نے سے بچ جا ئیں گے ۔ ہم ناحق کے مقابلے میں حق کے خادم بن کر ایمان اور عمل صالح کی شاہراہ پر ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے اور ہمارا معاشرہ لائق قیادت و رہبری ، ترقی و عزت اور انسان سازی کا نمونۂ عمل بن کر عزت افزائی کا حق دار کہلائے گا۔ کوئی بھی فرد بشر یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے تربیت کی ضرورت نہیں ہے‘ یہاں تک کہ انبیاؑئے کرام بھی براہ راست اللہ عزجل کی  تربیت میں ہو تے اور وحی سے ان کو حسب حال ہدایات دی جاتیں ۔ الہٰیانہ تربیت کی خاطر وہ بارگاہ خداوندی میں دست بدُعا ہوتے تھے اور خدا ان کی یہ ضررورت ہمیشہ پوری کرتا رہا۔ حزب اللہ کا یہی طریق عمل رہا ہے۔ اس لئے جس کسی انسان کو یہ خیال ذہن میں ابھر جائے کہ بس اب ہو چکااب تربیت کی کو ئی حاجت نہیں تو سمجھنا چاہئے کہ گمراہی نے سر اُٹھانا شروع کیا اور شیطان بد بخت نے دل میں وسوسہ ڈال دینا شروع کردیا ہے۔ یہی غیر تربیت انسان نہ جانے اپنے ساتھ کتنے بے گناہ جانوں کو آگے نہ جا نے کس کس چوراہے پر کھڑا کر کے جہالت و ذلت کے دلدل میں پھنسا دے گاکہ غیر تربیت یافتہ لشکروں یا حزب الشیطان میں یوں ہی بے تحاشہ اضافہ ہوتا رہے گا۔الغرض صالح تربیت پانا اور دوسروں کی صالح  وپاک تربیت کرنا ہمارا فرضِ اول اور ایمان نا ک پہلا تقاضاہے۔چاہے مرد ہو یا عورت ، بزرگ ہو یا نوجوان، گھر میں ہو یا اسکول (کالج و یونیورسٹی) میں یعنی زندگی کے ہر شعبے میں اور ہر سٹیج پر تربیت کا محتاج بننے سے ہی ہماری روحانی و انسانی حیثیت محفوظ رہتی ہے ۔

بنیادی طور تربیت ماں کی گود اور باپ کے جوار سے شروع ہوتی ہے۔ گھر سے ہی بچوں کے ایمان ‘ اخلاق ‘ صبر ‘استقلال اور اوصاف کی بنیاد پڑ جاتی ہے فکر و کردار کے ارتقاء کی شروعات بھی گھر سے ہی ہو تی ہے۔ ایک گھر معاشرے کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور ان دونوں میں ایک عمیق و گہرا رابطہ ہوتا ہے۔ گھر میں ایک ماہر اور گائیڈ کی ضرورت  رہتی ہے جو بچوں کو گائیڈ لائینز دینے میں مہارت رکھتا ہوکیونکہ بچہ کی شخصیت کی نیو پہلے پانچ سالوں میں ہی پڑجاتی ہے۔ اس سٹیج پر بچہ کے تئیں خواہ مخواہ ہٹ دھرم یا سخت مزاج نہیں بننا ہے کیونکہ بچہ بھی ان ہی خصوصیات کا ما لک بن جائے گا۔ یہاں ہمیں بچہ کا  Depression & Supression کاخاص خیال رکھنا ہے کیونکہ یہاں وہ آزادی و بہادری کے ساتھ مسائل کا حل نہیں کر پائے گا بلکہ غیروں کے سامنے ہو سکتا ہے بات تو کرے مگر ماں باپ کے سامنے بلا جھجک زبانِ اظہار کھولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا‘جس کی وجہ سے Communication gap   پیدا ہو جائے گی کہ جو مستقبل میں بچہ کی اندرونی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں رکاوٹ کا باعث بن جائے گا۔والدین اور گھر کا ماحول، گھر میں رہنے والی چیزیں، گھر میں ہونے والی باتیں، گھر میں اشخاص کا کردار، اُن کے طرز کلام ‘ اقوال و افعال سب چیزیں بچہ پر اثر انداز ہو تی ہیں۔ والدین بچہ کی عاطفی قوت(Emotional value) اورعقلی قوت (Rational value)  دونوں کی ایک ساتھ اصولوں کے ساتھ تربیت کرنے میں ہمیشہ کوشاں اور پیش پیش رہیں۔ ان کی یہ ناگزیر خصوصیت بچہ کے تئیںذمہ داریوں سے کنار ہ کشی و لا پروائی سے حل نہیں ہو سکتی ہے ۔ والدین اسکول میں بچہ اُستاد کے سپرد کر کے شاید کسی بڑی واہ واہ کے حقدار بن جاتے ہیںمگر نہیں‘ دراصل اسکول و والدین کے درمیان  Communication  انتہائی ضروری ہے کہ اسکول کیسا ہے؟ اُستاد کیسا ہے؟ کون سا علم پڑھتا اور سیکھتا ہے؟ انسانیت کا درس سیکھ رہا ہے یا غیر انسانیت کا؟ یہاں غفلت اور سہل انگاری سے کام لینا کمال انسانیت اورمعاشرے کے فکری ارتقاء سے خیانت کاری ہے۔ علم تو حاصل ہوگا ہی مگر یہ اصلاً بے ہدایت و بے کر امت اور نا پا ئیدار ونقصان دہ معلومات کاذخیرہ ہوگا۔ تربیت کے بغیر علم نقصان دہ اور مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے‘ اس لئے تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے۔بعض اوقات قوموں کو جس ذلت و رسوائی کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے ‘وہ بذریعہ غیر تربیت یافتہ مفکر ،ا سکالر ، خود ساختہ دانشور ، نام نہاد معلمین کی وساطت سے اُٹھانا پڑتا ہے۔ اسکول و دانش گاہ انسان کے اندر تمام تبدیلیوں کو ایک طرح دیتا ہے مگر اس کاآغاز گھر سے ہو تا ہے اورانجام کار معاشرے کی تقدیر بھی اسی ذریعے سے تشکیل پا تی ہے۔ گھر کے بعد اگر تعلیم گاہ بھی ایسے تربیتی مرکز بن جائیں اور علم کے ساتھ تہذیب نفس کا بھی یہاں اہتمام ہو تو معاشرے یا قوموں کو بدیوں اور برائیوں سے نجات مل سکتی ہیںاور سعادت کا تمغہ بھی حاصل ہو جائے۔ہم سب کو یہ بات نیت خلوص سے تسلیم کرنی ہوگی کہ گھر سے لے کر اسکول ، کالج یا یونیورسٹی تک ، بچہ سے لے کر بزرگ تک ، زن و مرد سب صالح تربیت کے محتاج ہیں ۔ چاہے ہم اپنے آپ کو کتنا ہی مہذب اور تربیت یا فتہ کہلانے کا شو ق پورا کر یں‘ اس وقت تک ہم خالی دامن ہیں جب تک ہم تربیتی نقطہ نگا ہ سے باخبر اور باشعور نہ ہو ں ۔ ۔ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سب دست بدُعا ہیں کہ ہم سب کی بہترین اور احسن طریقہ میں تربیت ہو جائے تاکہ اس روئے زمین پر انسانیت کی کتاب عملی طور آشکار و واضح ہوجائے اور’’… اَحسن تقویم …‘‘(Perfectly made) یا کہ ’’… خَیرُوالبَریۃ …‘‘  (Among best creations) جیسے عظیم الشان قرآ نی اعزازات کے حامل زندہ کردار چلتی پھرتی عملی تصویریں ان انسان ساز کار خانوں سے بکثرت بر آمد ہوں تاکہ دَم گھٹتی انسانیت پھر سے تازہ دم ہو کر اس شیطانی دمال اور فسق و فجور فحش و بطلان  کی آلودگیوں سے نجات پا سکے۔

……………

ای میل: mutahharthinking@gmail.com

 فون نمبر  :+91-9697397052

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By